قدر و قیمت
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - وقعت و منزلت، عزت و توقیر۔ "اس نظم کا مختصر سا اقتباس شاید اس نظم کی قدر و قیمت کو واضح کر سکے۔" ( ١٩٨٦ء، سلسلہ سوالوں کا، ٨١ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'قدر' کے ساتھ 'واؤ' بطور حرف عطف لگا کر عربی اسم 'قیمت' لگانے سے مرکب عطفی 'قدر و قیمت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٧٣ء کو "کلیات قدر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وقعت و منزلت، عزت و توقیر۔ "اس نظم کا مختصر سا اقتباس شاید اس نظم کی قدر و قیمت کو واضح کر سکے۔" ( ١٩٨٦ء، سلسلہ سوالوں کا، ٨١ )
جنس: مؤنث